رجسٹری کے عمل میں تبدیلی پٹواری نے زمین ماپنے کی بجائے سمارٹ فون پکڑ لیا

1,618

ریاست ماں جیسی ہوتی ہے۔ لیکن پاکستانی حکومت اپنی ٰٰٰعوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔
 

رجسٹری کے ٹیکس کا قانون: “گھر کا ٹیکس، پلاٹ کا ٹیکس، اب تصویریں لینے کا ٹیکس بھی شامل ہوگیا !”
 

پاکستان میں گھر یا زمین کی رجسٹری کے لیے ایک نیا قانون متعارف کرایا گیا ہے جس میں پٹواری کو اس مقام پر جانا ہوگا جہاں گھر یا زمین کی رجسٹری کرنی ہو، اور وهاں جاکرخود ذاتی طور پربچنے والے کی تصویر لوکیشن کے ساتھ لینی ہوگی، تاکہ رجسٹری کا عمل زیادہ موثر اور شفاف بنایا جاسکے۔ لیکن اس کی وجہ سے پٹواری  صاحب نے تو 'کراؤن پرنس' کا رول سنبھال لیاہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہے۔ عام آدمی سے لے کر کاروباری طبقے تک، ہر کوئی اس بوجھ کو محسوس کرتا ہے۔ کہیں پراپرٹی پر ٹیکس، تو کہیں روزمرہ کی اشیاء پر غیر ضروری ٹیکس، یہ سب عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

حکومت کی طرف سے لگاۓ جانے والےاضافی ٹیکس کی وجہ سےکوئی بڑا گھر یا عمارت رجسٹر کروائی جائے تو بہت سے لوگ عموماً خالی پلاٹ کی رجسٹری کروا لیتے ہیں تاکہ ٹیکس کا بوجھ کم ہو جائے۔  بہرحال، یہ طریقہ کسی حد تک ناجائز تو ہو سکتا ہے مگر کئی لوگ مجبوراً اس کا سہارا لیتے ہیں تاکہ اضافی ٹیکس سے بچ سکیں۔  

اس نئے قانون کا مقصد یہ تھا کے لوگ گھریا عمارت کی رجسٹری کرواتے وقت خالی پلاٹ  کی جگہ گھر کا ٹیکس دیں تاکے نظام میں شفافیت لائی جاسکے۔ لیکن اس قانون کی وجہ سے پٹواری اور عوام دونوں کے لیے مشکلات پیدا ہورہی ہے۔ تصویر کے ساتھ لوکیشن کی تصدیق ضروری کر دی گئی ہے تاکہ اصل صورتحال کو چھپایا نہ جا سکے۔ لیکن یہ اقدام ٹیکس چوری روکنے کے لیے کیا گیا ہے، مگرپٹواری ایک دن میں اتنی زیادہ مقامات پر جا نہیں سکتا جس کی وجہ سے رجسٹری کا عمل دیر کا شکار ہوسکتا ہے اور عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عوام کو اب گھر کی رجسٹری کرواتے وقت پلاٹ کی بجائے گھر کا ٹیکس دینا پڑے گا، اور پٹواری کی نئی ملازمت تصویر کمیشن کا خیال کرنا پڑے گا۔ لیکن اس نظام سے نظامی شفافیت اور معیاری قانون نفاذ ہوسکے گا، جو ملکی ترقی کے لیے مددگار ثابت ہوسکے گا۔

2رجسٹری کے عمل میں تبدیلی پٹواری نے زمین ماپنے کی بجائے سمارٹ فون پکڑ لیا 1
 

لوگ گھر خریدتے رہیں،یہاں پٹواری تصویر لیتا رہے اور ہم صرف ٹیکس دیتے رہیں:

دنیا کے اکثر ممالک میں جب کوئی شخص اپنا گھر خریدتا ہے تو اس پر اتنے زیادہ رسمی اور دستاویزی مراحل نہیں ہوتے، اور زیادہ تر معاملات آسانی سے مکمل ہو جاتے ہیں۔ مگر پاکستان میں یہ معاملہ مختلف ہے۔ یہاں ہر قدم پر بہت ساری تفصیلات، اور مختلف طریقوں سے دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے، جو لوگوں کے لیے زیادہ پریشانی اور وقت کا ضیاع بنتا ہے۔

یہاں تک کہ ان معاملات میں جس کا تعلق گھر خریدنے سے ہوتا ہے، بہت مشکل بنا دیا جاتا ہے کیونکہ ہر چیز پر اضافی ٹیکس اور فیسز ادا کرنی پڑتی ہیں۔ اس طرح کا نظام عوام کے لیے پریشانی پیدا کرتا ہے اور مالی طور پر بوجھ بن جاتا ہے۔ اس طرح کے پیچیدہ نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو آسانی اور سہولت میسر آئے۔


 


Share this post:

Related posts:
Agriculture and Commercial Property in Faisalabad | Faisalabad Realtors Guide

Faisalabad is growing as one of Pakistan’s most important industrial and investment cities. With strong economic activity, modern infrastructure, and rising demand for housing and office space, it offers excellent opportunities for investors.

Real Estate Business in Pakistan: Simple Guide for Investors

The property market in Pakistan is always active and growing. People are buying land, houses, and commercial spaces every day. Some invest for living. Some invest for profit. Some invest for rental income. Real estate is still one of the...

How to Increase Rural Property Value in Pakistan

Rural land in Pakistan is not just empty space anymore. People are buying it for farming, farmhouses, investment, and future development. But the real difference in price comes from one thing: how you maintain and improve your land. A plain...

Green Property Certificate: A Safer Future for Eco-Friendly Property Pakistan

Pakistan’s real estate sector is evolving rapidly with the introduction of digital property systems and environmentally conscious housing projects. Today, buyers are not only looking for modern homes but also secure investments and sustainable living solutions. This is where the...