رجسٹری کے عمل میں تبدیلی پٹواری نے زمین ماپنے کی بجائے سمارٹ فون پکڑ لیا

1,780

ریاست ماں جیسی ہوتی ہے۔ لیکن پاکستانی حکومت اپنی ٰٰٰعوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔
 

رجسٹری کے ٹیکس کا قانون: “گھر کا ٹیکس، پلاٹ کا ٹیکس، اب تصویریں لینے کا ٹیکس بھی شامل ہوگیا !”
 

پاکستان میں گھر یا زمین کی رجسٹری کے لیے ایک نیا قانون متعارف کرایا گیا ہے جس میں پٹواری کو اس مقام پر جانا ہوگا جہاں گھر یا زمین کی رجسٹری کرنی ہو، اور وهاں جاکرخود ذاتی طور پربچنے والے کی تصویر لوکیشن کے ساتھ لینی ہوگی، تاکہ رجسٹری کا عمل زیادہ موثر اور شفاف بنایا جاسکے۔ لیکن اس کی وجہ سے پٹواری  صاحب نے تو 'کراؤن پرنس' کا رول سنبھال لیاہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہے۔ عام آدمی سے لے کر کاروباری طبقے تک، ہر کوئی اس بوجھ کو محسوس کرتا ہے۔ کہیں پراپرٹی پر ٹیکس، تو کہیں روزمرہ کی اشیاء پر غیر ضروری ٹیکس، یہ سب عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

حکومت کی طرف سے لگاۓ جانے والےاضافی ٹیکس کی وجہ سےکوئی بڑا گھر یا عمارت رجسٹر کروائی جائے تو بہت سے لوگ عموماً خالی پلاٹ کی رجسٹری کروا لیتے ہیں تاکہ ٹیکس کا بوجھ کم ہو جائے۔  بہرحال، یہ طریقہ کسی حد تک ناجائز تو ہو سکتا ہے مگر کئی لوگ مجبوراً اس کا سہارا لیتے ہیں تاکہ اضافی ٹیکس سے بچ سکیں۔  

اس نئے قانون کا مقصد یہ تھا کے لوگ گھریا عمارت کی رجسٹری کرواتے وقت خالی پلاٹ  کی جگہ گھر کا ٹیکس دیں تاکے نظام میں شفافیت لائی جاسکے۔ لیکن اس قانون کی وجہ سے پٹواری اور عوام دونوں کے لیے مشکلات پیدا ہورہی ہے۔ تصویر کے ساتھ لوکیشن کی تصدیق ضروری کر دی گئی ہے تاکہ اصل صورتحال کو چھپایا نہ جا سکے۔ لیکن یہ اقدام ٹیکس چوری روکنے کے لیے کیا گیا ہے، مگرپٹواری ایک دن میں اتنی زیادہ مقامات پر جا نہیں سکتا جس کی وجہ سے رجسٹری کا عمل دیر کا شکار ہوسکتا ہے اور عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عوام کو اب گھر کی رجسٹری کرواتے وقت پلاٹ کی بجائے گھر کا ٹیکس دینا پڑے گا، اور پٹواری کی نئی ملازمت تصویر کمیشن کا خیال کرنا پڑے گا۔ لیکن اس نظام سے نظامی شفافیت اور معیاری قانون نفاذ ہوسکے گا، جو ملکی ترقی کے لیے مددگار ثابت ہوسکے گا۔

2رجسٹری کے عمل میں تبدیلی پٹواری نے زمین ماپنے کی بجائے سمارٹ فون پکڑ لیا 1
 

لوگ گھر خریدتے رہیں،یہاں پٹواری تصویر لیتا رہے اور ہم صرف ٹیکس دیتے رہیں:

دنیا کے اکثر ممالک میں جب کوئی شخص اپنا گھر خریدتا ہے تو اس پر اتنے زیادہ رسمی اور دستاویزی مراحل نہیں ہوتے، اور زیادہ تر معاملات آسانی سے مکمل ہو جاتے ہیں۔ مگر پاکستان میں یہ معاملہ مختلف ہے۔ یہاں ہر قدم پر بہت ساری تفصیلات، اور مختلف طریقوں سے دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے، جو لوگوں کے لیے زیادہ پریشانی اور وقت کا ضیاع بنتا ہے۔

یہاں تک کہ ان معاملات میں جس کا تعلق گھر خریدنے سے ہوتا ہے، بہت مشکل بنا دیا جاتا ہے کیونکہ ہر چیز پر اضافی ٹیکس اور فیسز ادا کرنی پڑتی ہیں۔ اس طرح کا نظام عوام کے لیے پریشانی پیدا کرتا ہے اور مالی طور پر بوجھ بن جاتا ہے۔ اس طرح کے پیچیدہ نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو آسانی اور سہولت میسر آئے۔


 


Share this post:

Related posts:
Women Guide to Property Buying in Pakistan

A few years ago, it was rare to see a woman walk into a property office. And she also ask questions herself, negotiate a price, or sign the final papers under her own name. That's changing fast. At Faisalabad Realtors,...

The Faisalabad Realtor's Guide to Winning Clients on Google Maps

As you stroll around any busy sector of Faisalabad - Madina Town, Susan Road or D Ground - buyers rarely knock first when searching "property dealer near me" or "plots for sale in Faisalabad," buyers use their phones instead and...

How Climate Change Is Reshaping the Pakistan Real Estate Market

For a long time, climate change felt like something far away, a problem for scientists and the news, not something that touched everyday life. That has changed. It has slowly turned into a money issue, and one of the clearest...

How Much Money Do I Need to Start Investing in Faisalabad Property?

If you've been thinking about putting your savings into property, chances are Faisalabad has crossed your mind. It's Pakistan's textile hub, the third largest city in the country, and honestly, it's still cheaper than Lahore or Karachi for comparable property....